ابنا: یورپی یونین نے ایران کےخلاف امریکہ کےاقدامات کاساتھ دیتےہوئے ابتدائےدسمبرمیں اعلان کیاتھاکہ اگرایران ایٹمی پروگرام کےبارےمیں عالمی برادری کےساتھ تعاون نہيں کرےگا تو نئی پابندیاں عائد کی جائيں گی جبکہ اٹلی ، اسپین ، اوریونان سمیت یورپی یونین کےکچہ ممالک ایران پرپابندیوں کےخلاف ہيں ۔
چین اور روس نےبھی بیان جاری کرکے ایران کےسنٹرل بینک اور تیل پرپابندی عائد کرنےکےسلسلےمیں امریکی کانگریس کےنئےبل کی مخالفت کااعلان کیاہے۔
ایران پرنئی پابندیاں عائد کرنےکےسلسلےمیں یورپی یونین کےشکوک وشبہات کےحامل بیانات ایسےعالم میں سامنےآرہےہیں کہ منگل کےدن اسلامی جمہوریہ ایران کےنائب صدر نےاپنےبیان میں جسےمغربی ذرائع ابلاغ نے بھی کافی کوریج دی ہےتاکیدکی ہےکہ ایران کودشمنی اورنفرت میں کوئی دلچسپی نہيں ہے بلکہ ایران کانعرہ دوستی اوربرادری ہے لیکن مغربی ممالک اپنامنصوبہ ترک نہيں کرناچاہتے۔محمدرضارحیمی نےکہاکہ ایران کےتیل کےبائیکاٹ کی صورت میں آبنائےہرمزسے تیل کی ترسیل روک دی جائےگی ۔
آبنائےہرمز دنیا کےبحری رابطےکی اہم آبنائےہے اورواضح ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سرحدی حدود کی سیکورٹی پرتاکید کرتاہے اورآبنائےہرمزبھی ایران کےسرحدی حدود میں ہے۔
اوربین الاقوامی کنونشنوں کی بنیاد پراس علاقےسےجتنےبھی تجارتی اورفوجی جہازگذرتےہیں ان کی حفاظت اور کنٹرول ایران کی ذمہ داری ہے لیکن امریکہ نےایران کی اس ذمہ داری کوہمیشہ علاقےمیں ایران کےکردار کوخطرہ بناکر پیش کرنے کےلئےاستعمال کرنےکی کوشش کی ہے۔
ایران غیرمنصفانہ اورمغرب کےپروپیگنڈے کی بنا پر سیاسی یلغار اوربراہ راست فوجی دھمکی اور مغرب کی پابندیوں کانشانہ بناہواہے ایسی پابندیاں جو عالمی تجارت کی آزادی کےخلاف ہیں۔ اس کےباوجود اقتصادی ماہرین کاخیال ہےکہ ایران کےتیل پربابندی نہ صرف امریکہ بلکہ بہت سےاتحادی ملکوں اورامریکہ کےتجارتی شریکوں پرمنفی اثرڈالےگی۔
اس بناپر امریکہ ایران کےخلاف پابندیوں کےذریعے اکیلے اور براہ راست ایرانی تیل کابائیکاٹ نہیں کرناچاہتاہے اسی لئے وہ ترجیح دیتاہے کہ پہلے علاقے کےممالک اور یورپی یونین کو اپنی مہم جوئی میں شامل کرے لیکن عالمی پیمانےپروہائٹ ہاؤس کی ان توقعات کو غیرمعقول سمجھاجارہاہے اسی بنا پر یورپی یونین اس سلسلےمیں کوئي فیصلہ کرنےکےلئے کم سےکم جنوری تک کاوقت حاصل کرناچاہتی ہے۔ .......
/169